Zakat Calculator

Step 1: Profile, Eligibility & Nisab
پروفائل، اہلیت اور نصاب
پورا نام
Read it First پہلے اسے پڑھیں
Wealth Purity: Wealth must be Halal. Completely Haram wealth is exempt from Zakat calculations but it should be returned to the original owners or given as charity without intention of reward (sawaab), after consulting scholars.
مال کا حلال ہونا شرط ہے۔ حرام مال پر زکوٰۃ نہیں، اسے اصل مالکان کو لوٹانا یا ثواب کی نیّت کے بغیر صدقہ کرنا واجب ہے۔
زکوٰۃ کس پر فرض ہے ؟

زکوٰۃ دینا ہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جائیں :

  1. نصاب کا مالک ہو ۔
  2. یہ نصاب نامی ہو ۔
  3. نصاب اس کے قبضے میں ہو ۔
  4. نصاب اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو۔
  5. نصاب دَین سے فارغ ہو
  6. اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ۔(ملخصاً، بہارشریعت، ج۱ حصہ۵، ص ۸۷۵تا۸۸۴ )
نصاب کا مالک ہونے سے کیا مراد ہے؟

شریعت نے جتنے مال پر زکوۃ کو فرض قرار دیا ہے اس کو نصاب کہتے ہیں اور جو اس مال کا مالک ہو اس کو مالکِ نصاب یا صاحبِ نصاب کہتے ہیں۔

زکوٰۃ کے باب میں مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ، یا ساڑھے باون تولے چاندی ، یا اِتنی مالیت کی رقم ، یا اتنی مالیت کا مال ِ تجارت ہو ۔

اگر کوئی عاقل بالغ مسلمان اس نصاب کا مالک ہو ، یہ نصاب ’’نامی‘‘ (یعنی: بڑھنے والامال ہو خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً)، نصاب اس کے قبضے میں ہو، اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو، اور ’’دَین‘‘ سے فارغ ہو(یعنی اس پر ایسا قرض نہ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ، کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو اس کا نصاب باقی نہ رہے)، اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔

نوٹ: قربانی، صدقہ فطر اور زکوٰۃ لینے کے مستحق ہونے کے باب میں مالکِ نصاب ہونے کا معیار کچھ مختلف ہے۔ جس کی تفصیل علماء سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

سال کب مکمل ہوگا ؟

جس تاریخ اوروقت پر آدمی صاحبِ نصاب ہُوا جب تک نصاب رہے وہی تاریخ اوروقت جب آئے گا ۔۔ سال مکمل ہوگا۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ، ج۱۰، ص۲۰۲)

زكوة كس طرح نکالی جائے ؟

سب سے پہلے زکوۃ واجب ہونے کی قمری تاریخ کا تعین کر لیں۔

زکوۃ واجب ہونے کی قمری / اسلامی تاریخ کو ملکیت میں موجود قابل زکوۃ اثاثوں کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق مالیت کا تعیّن کرکے ایپلی کیشن میں درج کریں

کرنسی منتخب کریں
زکوٰۃ کے سال کے اختتام کی تاریخ
Pick a Date
سال گزرنے میں قَمری(یعنی چاند کے )مہینوں کا اعتبار ہوگا۔
Nisaab Calculator نصاب کی مقدار کیا ہے؟
اوپر لکھی ہوئی تاریخ پر نصاب کی مقدار کا تعین کرنے کے لئے چاندی کا ریٹ درج کریں
Nisaab Threshold - نصاب کی مقدار
0
ایپلی کیشن میں چاندی کا نصاب کیوں بنیادی معیار بنایا گیا ہے؟

اصول یہ ہے کہ:
اگر صرف سونا ہو اور اس کے ساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال( مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت وغیرہ )موجود نہ ہو، توزکوٰۃ تب ہی فرض ہو گی کہ جب سونا وزن کے اعتبار سے ساڑھے سات تولے ہو، اور دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔

لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ لوگوں کے پاس مختلف قسم کے مال ہوتے ہیں۔لہٰذا:
دیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ
اگر سونے کےساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال( مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت وغیرہ )موجود ہو، تو اس صورت میں فرضیتِ زکوۃ کا نصاب ’’ساڑھے52 تولے چاندی کی مالیت‘‘ہے،

پھر اگر قرض ہو، تو اسےسونے اور دیگراموالِ زکوٰۃ کی کُل مالیت میں سے مِنہا (مائنس) کرنے کے بعد بچنے والی رقم ساڑھے 52 تولہ چاندی کی مالیت کے برابر پہنچتی ہو، اور نصاب پر سال گزر جائے تو قرض کے علاوہ اس تمام مال کی زکوٰۃ فرض ہو گی۔