زکوٰۃ دینا ہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جائیں :
- نصاب کا مالک ہو ۔
- یہ نصاب نامی ہو ۔
- نصاب اس کے قبضے میں ہو ۔
- نصاب اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو۔
- نصاب دَین سے فارغ ہو
- اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ۔(ملخصاً، بہارشریعت، ج۱ حصہ۵، ص ۸۷۵تا۸۸۴ )
شریعت نے جتنے مال پر زکوۃ کو فرض قرار دیا ہے اس کو نصاب کہتے ہیں اور جو اس مال کا مالک ہو اس کو مالکِ نصاب یا صاحبِ نصاب کہتے ہیں۔
زکوٰۃ کے باب میں مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ، یا ساڑھے باون تولے چاندی ، یا اِتنی مالیت کی رقم ، یا اتنی مالیت کا مال ِ تجارت ہو ۔
اگر کوئی عاقل بالغ مسلمان اس نصاب کا مالک ہو ، یہ نصاب ’’نامی‘‘ (یعنی: بڑھنے والامال ہو خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً)، نصاب اس کے قبضے میں ہو، اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو، اور ’’دَین‘‘ سے فارغ ہو(یعنی اس پر ایسا قرض نہ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ، کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو اس کا نصاب باقی نہ رہے)، اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔
نوٹ: قربانی، صدقہ فطر اور زکوٰۃ لینے کے مستحق ہونے کے باب میں مالکِ نصاب ہونے کا معیار کچھ مختلف ہے۔ جس کی تفصیل علماء سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔
جس تاریخ اوروقت پر آدمی صاحبِ نصاب ہُوا جب تک نصاب رہے وہی تاریخ اوروقت جب آئے گا ۔۔ سال مکمل ہوگا۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ، ج۱۰، ص۲۰۲)
سب سے پہلے زکوۃ واجب ہونے کی قمری تاریخ کا تعین کر لیں۔
زکوۃ واجب ہونے کی قمری / اسلامی تاریخ کو ملکیت میں موجود قابل زکوۃ اثاثوں کی مارکیٹ ریٹ کے مطابق مالیت کا تعیّن کرکے ایپلی کیشن میں درج کریں
اصول یہ ہے کہ:
اگر صرف سونا ہو اور اس کے ساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال( مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت وغیرہ )موجود نہ ہو، توزکوٰۃ تب ہی فرض ہو گی کہ جب سونا وزن کے اعتبار سے ساڑھے سات تولے ہو، اور دیگر شرائط بھی پائی جائیں۔
لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ لوگوں کے پاس مختلف قسم کے مال ہوتے ہیں۔لہٰذا:
دیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ
اگر سونے کےساتھ مالِ زکوۃ میں سے کسی اور جنس کا کوئی بھی مال( مثلاً چاندی، روپیہ پیسہ، مالِ تجارت وغیرہ )موجود ہو، تو اس صورت میں فرضیتِ زکوۃ کا نصاب ’’ساڑھے52 تولے چاندی کی مالیت‘‘ہے،
پھر اگر قرض ہو، تو اسےسونے اور دیگراموالِ زکوٰۃ کی کُل مالیت میں سے مِنہا (مائنس) کرنے کے بعد بچنے والی رقم ساڑھے 52 تولہ چاندی کی مالیت کے برابر پہنچتی ہو، اور نصاب پر سال گزر جائے تو قرض کے علاوہ اس تمام مال کی زکوٰۃ فرض ہو گی۔
(Pay their Zakat Immediately)
شرعاً قیمت اس کو کہتے ہیں جو اس چیز کا بازار میں بھاؤہو ، اتفاقی طور پر یا بھاؤتاؤ کرنے کے بعد کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی چیز خرید لی جائے تو اس کو قیمت نہیں کہیں گے (بلکہ ثَمَن کہیں گے )۔(فتاویٰ امجدیہ ج ۱ص۳۸۲)
کس جگہ کی قیمت لی جائے گی؟
قیمت اس جگہ کی ہونی چاہیے جہاں مال ہے ۔ (بہارشریعت ، ج۱، حصّہ ۵، مسئلہ ۱۸، ص۹۰۸)
قیمت کس دن کی معتبر ہے ؟
قیمت نہ توبنوانے کے وقت کی معتبر ہے نہ ادائیگیٔ زکوٰۃ کے وقت کی بلکہ جب زکوٰۃ کا سال پورا ہوا اسی وقت کی قیمت کا حساب لگایا جائے گا ۔(ماخوذازفتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ۱۳۳)
قیمت کس دن کی معتبر ہے؟ زکوٰۃ کا سال جس دن پورا ہوا اسی وقت کی قیمت کا حساب لگایا جائے گا۔ (ماخوذازفتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ص۱۳۳)
ہیروں پر زکوٰۃ: ہیروں اور موتی پر زکوٰۃ واجب نہیں ، ہاں ! اگر تجارت کی نیت سے لئے تو زکوٰۃ واجب ہے۔ (الدرالمختار، ج۳، ص۲۳۰)
گولڈ کی زکاۃ میں کھوٹ شمار ہو گا یا نہیں؟
سوال: گولڈ کی زکوٰۃ کو شمار کرتے ہوئے، اس میں کھوٹ کو بھی گولڈ میں شمار کر کے اس کا ریٹ لگائیں گے یا کھوٹ کے علاوہ کا اعتبار ہو گا جیسے 18 کیرٹ کا سونا ہو اور اس میں 75 فیصد گولڈ اور 25 فیصد کھوٹ ہو، تو کھوٹ سمیت پورا گولڈ ہی شمار کیا جائے گا یا کھوٹ کو نکال کر صرف گولڈ کے وزن کا اعتبار ہو گا؟
جواب: سونا ،چاندی میں سے اگر کسی کے ساتھ دوسری دھات مل جائے ،تو جو ان میں سے غالب ہو اسی کا اعتبار ہوتا ہے اورسوال میں بیان کردہ صورت میں بھی سونا چونکہ کھوٹ پر غالب ہے ، لہذاکھوٹ کے وزن کو بھی سونے کے وزن کے ساتھ شامل کر کے ٹوٹل وزن کا اعتبار ہو گا ۔ ہاں ! اتنا ضرور ہے کہ جب آپ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کریں گے، تو18 کیرٹ سونے کی سال پوراہونے کے دن جو مارکیٹ ویلیو ہو گی زکوٰۃ بھی اسی کے مطابق ہو گی ۔ (فتاویٰ اہلِ سُنّت)
کرائے کا مکان: کرائے پر دیئے گئے مکانات پر زکوٰۃ نہیں، ہاں ! حاصل ہونے والا نفع اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ ہوگی۔ (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ص۱۶۱ ملخصاً)
استعمال کی گاڑیاں: گھریلو استعمال یا کرائے کی گاڑیوں/بسوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ (وقارالفتاویٰ)
ہماری جو رقم کسی کے ذمے ہو اسے’’ دَین‘‘ کہتے ہیں۔
اس کی 3 قسمیں ہیں۔قوی؛ متوَسّط اور ضعیف۔ اور ہر ایک کا حکم الگ الگ ہے
دَین قَوِی اسے کہتے ہیں جو ہم نے کسی کو قرض دیا ہوا ہو، …یاتجارت کا مال اُدھاربیچا ہو، …یاکوئی زمین یا مکان تجارت کی غرض سے خرید کر کرائے پر دیا اور وہ کرایہ کسی کے ذمے ہو ۔
حکم: اس کی زکوٰۃ ہرسال فرض ہوتی رہے گی لیکن ادا کرنا اس وقت واجب ہو گا جب مقدارِ نصاب کا کم ازکم پانچواں حصہ وصول ہوجائے تو اس پانچویں حصے کی زکوٰۃ دینا ہوگی ، مثلاً 50,000روپے نصاب ہو تو جب اس کا پانچواں حصہ 10,000روپے وصول ہوجائیں تو اس کا چالیسواں حصہ 250روپے بطورِ زکوٰۃ دینا واجب ہوگا۔البتہ آسانی اس میں ہے کہ ہر سال اس کی بھی زکوٰۃ ادا کر دی جائے ۔
دَین مُتَوَسِّط اسے کہتے ہیں جو غیرتجارتی مال کا عوض یا بدل ہو جیسے گھر کی کرسی یا چارپائی یا دیگر سامان بیچا اور اس کی قیمت لینے والے پر اُدھار ہو۔
حکم: اس میں بھی زکوٰۃ فرض ہوگی مگر ادائیگی اُس وقت واجب ہوگی جب بقدرِ نصاب پوری رقم آجائے ۔
وہ ہے جو غیرِ مال کا بدل ہو جیسے مہر مؤجّل اور مکان یا دکان کا کرایہ کہ نفع کا بدلہ ہے مال کا نہیں۔
حکم: اس میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ فرض نہیں ہے ۔جب قبضہ میں آجائے اور شرائطِ زکوٰۃ پائی جائیں تو سال گزرنے پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔(الدرالمختار، کتاب الزکوٰۃ ، باب زکوٰۃالمال ج۳، ص۲۸۱ملخصاً : بہار ِ شریعت ، حصہ ۵، ص۹۰۶)
جس کے ذمے ہمارا دَین(قوی یا ضعیف )ہو اور وہ لاپتہ ہوگیا ، یا اس نے ہمارا مقروض ہونے سے انکار کردیا اور ہمارے پاس گواہ بھی نہیں ، الغرض قرض کی واپسی کی کوئی امید نہ رہی تو اب ہم پر زکوٰۃ دینا واجب نہیں۔
پھر اگر خوش قسمتی سے اس نے قرض لوٹادیا تو ایسی صورت میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ فرض نہیں ہے ۔(الدر المختار وردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ، مطلب فی زکوٰۃ ثمن المبیع، ج۳، ص۲۱۸)
مہر دو قسم کا ہوتا ہے ، مُعَجَّل (یعنی خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے )اور غیرِ مُعَجَّل(جس کے لئے کوئی میعاد مقرر ہو)، اگر عورت کا مہر معجل نصاب کے بقدر ہو تواس کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہونے پر اس کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہو گا اور غیر معجل مہر میں عموماًادائیگی کا وقت طے نہیں ہو تا اور اس کا مطالبہ عورت طلاق یا شوہر کی موت سے پہلے نہیں کر سکتی۔ اس پروصول کرنے کے بعد شرائط پوری ہونے کی صورت میں زکوٰۃ فرض ہوگی ۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ص۱۶۹)
Other Receivables
پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کے مسائل میں اختلاف ہے، ہم نے احتیاطاً اسے زکوٰۃ میں شامل کیا ہے۔ کئی علماء کے مطابق چونکہ یہ فنڈ مالک کی مِلک ہوتا ہے ، اس لئے اگر ملازم مالکِ نصاب ہے توجب سے یہ رقم جمع ہونا شروع ہوئی اُسی وقت سے اِس رقم کی بھی زکوٰۃ ہر سال فرض ہوتی رہے گی۔ (فتاوی فیض الرسول ، حصّہ اوّل، ص ۴۷۹)لیکن ادائیگی اس وقت واجب ہوگی جب مقدارِ نصاب کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہوجائے ۔(ماخوذ از فتاوٰی فقیہ ملت ج۱، ص۳۲۰)
جو اصل رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اور اس کٹوتی والی رقم کے برابر جو رقم ادارے کی طرف سے ملائی جاتی ہے یہ دونوں طرح کی رقم ملازم کی ہی ملکیت ہے اور اس کے لئے حلال ہے۔ لیکن جو سودی اضافہ ہے اس پر زکوٰۃ نہیں کہ زکوٰۃ پاک مال پر ہوتی ہے ۔
ہاں زکوٰۃ میں یہ رخصت ہے کہ جب تک وہ رقم مکمل یا کم از کم نصاب کے پانچویں حصے کے برابر وصول نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی ادائیگی واجب نہیں ہوگی لیکن جب وصول ہوگی تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی اس لئے بہتر ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جس پر دیگر اموال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے تو وہ ہر سال اس رقم کی بھی زکوٰۃ نکالتا رہے جو فنڈ میں جمع ہوتی رہی ہے ،تاکہ بعد میں ایک ساتھ نکالنے کی دشواری نہ ہو۔
واضح رہے کہ ادارے کی طرف سے یہ رقم بینک وغیرہ میں رکھواکر اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ نفع سود ہے کیونکہ بینک میں اس رقم کو رکھوانا قرض ہے اورقرض پر ملنے والا نفع سود ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سود کی رقم کا حکم یہ ہے کہ ملازم کو جب کُل رقم ملے تو سودی رقم بِلانیتِ ثواب شرعی فقیر کو دے دی جائے۔ اور اگر کمپنی یا ادارہ یہ آپشن دیتا ہے کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میری رقم پر سود کا اضافہ نہ کیا جائے تو ایسا کرنا ضروری ہوگا۔
| Details تفصیلات | |
|---|---|
|
A : Core Assets
الف: قابلِ زکوٰۃ بنیادی اثاثے
|
0 |
|
B : Receivables
ب: قابلِ وصول رقوم
|
0 |
|
C : Liabilities
ج: کُل واجبات (مِنہا ہوں گے)
|
0 |
|
D : Net Wealth (A+B-C)
کُل قابلِ زکوٰۃ مالیت
|
0 |
Nisab Value (Threshold) |
0 |
|
E : Total Zakat (2.5%)
کُل واجب الاداء زکوٰۃ
|
0 |